Posted in

سستی کولڈ ڈرنکس کے حوالے سے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے خبردار کر دیا

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کم ٹیکس پالیسیوں کے باعث میٹھی اور الکوحل مشروبات سستی ہو چکی ہیں، جو بالخصوص بچوں میں موٹاپا، ذیابیطس، دل کے امراض، کینسر اور حادثات جیسے سنگین مسائل کو جنم دے رہی ہیں۔

گزشتہ جاری کردہ رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ میٹھی مشروبات پر ہیلتھ ٹیکس میں نمایاں اضافہ کریں تاکہ نقصان دہ استعمال میں کمی اور صحت کے شعبے کے لیے وسائل حاصل کیے جا سکیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریاسس نے کہا کہ تمباکو، میٹھی مشروبات اور شراب جیسی مصنوعات پر ٹیکس بڑھا کر حکومتیں نہ صرف مضر صحت استعمال کم کر سکتی ہیں بلکہ صحت کی بنیادی سہولیات کے لیے فنڈز بھی حاصل کر سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے کم از کم 116 ممالک میٹھی مشروبات پر ٹیکس عائد کرتے ہیں، تاہم یہ ٹیکس زیادہ تر صرف سافٹ ڈرنکس تک محدود ہے۔ 100 فیصد فروٹ جوسز، میٹھے دودھ والے مشروبات اور ریڈی ٹو ڈرنک کافی و چائے جیسی زیادہ شوگر رکھنے والی اشیا اکثر ٹیکس سے بچ جاتی ہیں۔

الکوحل سے متعلق ایک الگ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 167 ممالک میں شراب پر ٹیکس عائد ہے جبکہ 12 ممالک میں شراب پر مکمل پابندی ہے۔

اس کے باوجود 2022 کے بعد سے بیشتر ممالک میں شراب یا تو سستی ہوئی ہے یا اس کی قیمت میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا، کیونکہ ٹیکس مہنگائی اور آمدنی میں اضافے کے مطابق نہیں بڑھائے گئے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں الکوحل پر ٹیکس کی شرح تشویشناک حد تک کم ہے، جہاں بیئر پر اوسط ایکسائز ٹیکس 14 فیصد اور اسپرٹس پر 22.5 فیصد ہے۔

اسی طرح میٹھی مشروبات پر ٹیکس بھی نہایت کم ہے اور عام طور پر ایک سوڈا کی قیمت کا صرف 2 فیصد بنتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت کم ممالک ٹیکس کو مہنگائی کے ساتھ منسلک کرتے ہیں، جس کے باعث صحت کے لیے نقصان دہ مصنوعات وقت کے ساتھ مزید سستی اور عام ہوتی جا رہی ہیں، جو عالمی صحت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

Leave a Reply