Posted in

حکومت نے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کیلئے نیشنل پالیسی ڈرافٹ تیار کر لیا

حکومت نے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کیلئے نیشنل پالیسی ڈرافٹ تیار کر لیا

سالانہ بنیادوں پر پاکستان تقریبا 34 کروڑ ڈالر کی ویکسین درآمد کرتا ہے

حکومت کی جانب سے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے نیشنل پالیسی ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے، جس کے مطابق ویکسین کی تیاری کے لیے ٹیکسز کی چھوٹ، سرمایہ کاری پر تحفظ حاصل ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ویکسین کی صنعت میں سرمایہ کاری پر مالیاتی اور ریگولیٹری انسینٹو حاصل ہونے کے ساتھ ٹیکسز اور ان پُٹ کاسٹ پر رعائیت دی جائے گی، جبکہ اس حوالے سے سرمایہ کاری پر دس برسوں کے لیے مالیاتی رعائیتی پیکج بھی دیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے پالیسی ڈرافٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر پاکستان تقریبا 34 کروڑ ڈالر کی ویکسین درآمد کرتا ہے، یہ بل 2030 سے 2035 تک بڑھ کر 1.2 ارب ڈلر تک پہنچ سکتا۔

پالیسی ڈرافٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں سالانہ بنیادوں پر تقریبا سات لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، نومولود بچوں کے لیے ہیپاٹائٹس، ملیریا، ڈینگی جیسی مرض کے لیے ویکسینیشن ضروری ہے۔

پالیسی کے تحت ویکسین مینوفیکچرر کمپنیوں کو کارپوریٹ ٹیکس سے ریلیف، جبکہ ویکسین کی تیاری کے لیے آلات پر کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے استثنی حاصل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: رواں برس کی پہلی پولیو مہم کا آغاز 2 فروری سے ہوگا

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرمایہ کاری پر الاؤنس اور نقصان کی صورت میں حکومتی سطح پر ازالہ کیا جا سکے گا، جبکہ ویکیسین تیاری، کلینیکل ٹرائلز اور ورک فورس کی ٹریننگ کے لیے اخراجات پر رعائیت ملے گی۔

ویکسینیشن کی مقامی سطح پر تیاری نیشنل ہیلتھ سیکیورٹی ہے، پالیسی ڈرافٹ، ویکسین کی برآمد کے لیے مقامی سطح پر کریڈیبلٹی ہونا لازمی ہو گی، پالیسی ڈرافٹ، حکومت کوالٹی اور ریگولیٹڈ ویریفائیڈ ویکسین کو 10 برسوں تک خریدے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیار ویکسین کو قیمتوں کو درآمدی ویکسین کی قیمتوں سے کم رکھا جائے گا، فنانسنگ گیپ کے حل کے لیے نیشنل ویکسین اینڈ بائیولوجی فنڈز کا قیام عمل میں لایا جائے گا، اے ڈی بی، عالمی بنک، اسلامک ڈویلپمنٹ بنک اور مقامی فنانسنگ حاصل کی جا سکے گی۔

ٹیکسز سے استثنی دینے کے لیے آئی ایم ایف اور ایف بی آر سے بات چیت بھی ہو گی، پالیسی حتمی مراحل میں داخل ہے جسے حکومت جلد متعارف کرا سکتی ہے۔

Leave a Reply