دنیا کی ذہین ترین چمپینزی 49 برس کی عمر میں چل بسی
یہ چمپینزی جانوروں کی ذہانت، سیکھنے کی صلاحیت اور یادداشت سے متعلق تحقیق میں ایک نمایاں مقام رکھتی تھی۔
چینی حروف اور حروفِ تہجی پہچاننے والی دنیا کی ذہین ترین چمپینزی 49 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئی۔
جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی سے وابستہ محققین کے مطابق آئی بڑھاپے سے جڑی مختلف بیماریوں اور اعضا کے ناکارہ ہونے کے باعث جمعے کے روز چل بسی۔
آئی کے نام کا مطلب جاپانی زبان میں محبت ہے،وہ جانوروں کی ذہانت، سیکھنے کی صلاحیت اور یادداشت سے متعلق تحقیق میں ایک نمایاں مقام رکھتی تھی۔
یونیورسٹی کے ادارہ برائے انسانی رویّے کی ارتقائی بنیادوں کے مطابق آئی کی بدولت چمپینزی کی ذہنی صلاحیتوں کو سمجھنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔
محققین کے مطابق آئی سو سے زائد چینی حروف، حروفِ تہجی، صفر سے نو تک ہندسے اور گیارہ مختلف رنگ پہچاننے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
ایک تجربے میں اسے رنگ گلابی کا چینی حرف دکھایا گیا جس کے ساتھ ایک گلابی اور ایک جامنی خانہ موجود تھا اور آئی نے درست طور پر گلابی خانے کا انتخاب کیا۔
ایک اور تجربے میں جب اسے سیب دکھایا گیا تو اس نے کمپیوٹر پردے پر مختلف اشکال منتخب کرکے ایک فرضی سیب تشکیل دیا جو اس کی غیر معمولی فہم و ادراک کی مثال ہے۔
آئی کی ذہانت کے باعث اس پر متعدد تحقیقی مقالے لکھے گئے اور وہ ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بھی بنی جس کی وجہ سے اسے عوامی سطح پر ذہین ترین چمپینزی کہا جانے لگا۔
مغربی افریقہ سے تعلق رکھنے والی آئی 1977 میں جاپان پہنچی تھی جب کہ سن 2000 میں اس کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس کی صلاحیتوں نے بھی والدین اور اولاد کے درمیان علم کی منتقلی سے متعلق تحقیق کو نئی جہت دی۔
واضح رہے کہ آئی کی زندگی اور تحقیق نے انسانی ذہن کے ارتقا کو سمجھنے میں ایک مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کی اور وہ ہمیشہ جانوروں کی ذہانت پر تحقیق میں ایک یادگار نام کے طور پر جانی جائے گی۔